ریو دی جنیریو،22؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بیڈمنٹن پاور ہاؤس مانے جانے والے چین نے طویل عرصے تک اس کھیل میں دبدبہ بنایا لیکن ریو اولمپکس میں ملک کو ملے صرف دو طلائی تمغے عکاسی کرتاہے کہ اس کی پکڑ کمزور ہو رہی ہے۔چین نے لندن 2012میں کلین سوئپ کرتے ہوئے پانچوں طلائی تمغہ اپنے نام کئے تھے لیکن برازیل میں وہ اس کارکردگی کو دہرانے میں ناکام رہے جب خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی اور سپر اسٹار لن ڈین خالی ہاتھ لوٹے۔بیڈمنٹن میں خراب کارکردگی کی وجہ سے ہی شاید چین تمغوں کی فہرست میں برطانیہ کے بعد تیسرے مقام پر کھسک گیا۔سڈنی 2000کھیلوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب چین ٹاپ2 میں جگہ نہیں بنا پایا۔لی شیروی خواتین کے سنگلز میں لندن میں رہتے ان خطاب کا دفاع کرنے میں ناکام رہی اور سیمی فائنل میں ہار گئی جس سے 20سال پہلے اٹلانٹا اولمپکس کے بعد دنیا کو پہلا غیر چینی چمپئن ملا۔اسپین کی طلائی تمغہ فاتح کیرولینا مارین کے خلاف شکست کے بعد شیروی نے کہا تھا کہ 1992بارسیلونا اولمپک سے کھیلوں کے مہاکمبھ کا حصہ بنے بیڈمنٹن میں چین کے لئے دبدبہ برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔